World
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا کے ساتھ ٹیرف موخر کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر پہنچنے کا اعلان کرتے ہوئے کینیڈین درآمدات پر مجوزہ ٹیرف عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ ایک اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کینیڈین درآمدات پر عائد کیے جانے والے نئے ٹیرفز کو عارضی طور پر تین دن کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی امور پر مذاکرات کے دوران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے کے اشارے ملے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کینیڈین اشیا پر پچاس فیصد تک کے مجوزہ کسٹم ڈیوٹی یا ٹیرف کے نفاذ کو فی الحال روک دیا ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات اور تجارتی مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی سکھ کا سانس لیا گیا ہے کیونکہ تجارتی جنگ کے خدشات عارضی طور پر ٹل گئے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈین حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیرف کا رکنا ایک مثبت قدم ہے تاہم دونوں ممالک کے مابین حتمی اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی اہم امور پر مزید سنجیدہ کام باقی ہے۔ مذاکراتی عمل سے جڑے ذرائع کا بتانا ہے کہ اس دوران توانائی، سیکورٹی اور سرحد پار تجارت کے حوالے سے اہم نکات پر تبادلہ خیال جاری رہے گا۔ اس دوران امریکی صدر کی طرف سے کینوس میں کِیسٹون ایکس ایل (Keystone XL) آئل پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں، جو ماضی میں ماحولیاتی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر متنازعہ رہا تھا اور اسے معطل کر دیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ توانائی کے اس منصوبے کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے تاہم حتمی منظوری کے لیے آئندہ چند روز کے مذاکرات انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان اس تازہ پیشرفت نے شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے اور اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ تین دن کی اس مہلت میں فریقین کس حد تک باضابطہ اور طویل المدتی معاہدے کو حتمی شکل دے پاتے ہیں۔