LIVE
Loading Breaking News...

گوڈ مین سیکس کی اے آئی اور لیبر مارکیٹ سے متعلق رپورٹ

News Image
گولڈ مین سیکس کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے لیبر مارکیٹ میں نوکریوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی درجے کے کارکنان اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیکس نے اپنی ایک تازہ ترین تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کس طرح عالمی لیبر مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور کون سے شعبے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی روایتی روزگار کے مواقع اور افرادی قوت کی طلب کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے منفی اور مثبت دونوں اثرات مرتب ہو رہے ہیں، تاہم ابتدائی سطح کے کارکنوں کے لیے چیلنجز زیادہ گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ابتدائی درجے کے کارکنان یعنی انٹری لیول (Entry-Level) ایمپلائز اے آئی کے دباؤ کو سب سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مصنوعی ذہانت صرف مخصوص وائٹ کالر پروفیشنلز کو خطرے میں ڈالے گی، لیکن تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پورا روزگار کا ڈھانچہ اس تبدیلی کے زیرِ اثر ہے۔ بہت سے روایتی کام جو پہلے جونیئر سطح کے ملازمین انجام دیتے تھے، اب اے آئی ٹولز اور سافٹ ویئر کے ذریعے انتہائی کم وقت میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، مصنوعی ذہانت کے مبصرین اور ماہرین نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہاں تک کہ جیوفرے ہنٹن، جنہیں مصنوعی ذہانت کا 'گاڈ فادر' کہا جاتا ہے، پہلے ہی یہ انتباہ جاری کر چکے ہیں کہ اے آئی کا غیر منظم استعمال مستقبل میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین اس صورتحال کا مثبت پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئی قسم کی ہنر مندی کے حامل افراد کے لیے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں، دنیا بھر کی حکومتیں اور ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ لیبر مارکیٹ کے اس نئے بحران سے کیسے نمٹا جائے اور کارکنوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق کیسے ڈھالا جائے۔