LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کے سابق وزیر دفاع کا جنگی انتخابات کا مطالبہ

News Image
یوکرین کے سابق وزیر دفاع نے ملک میں جنگی حالات کے دوران انتخابات منعقد کرانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قدم سے یوکرینی جمہوریت کو مضبوطی ملے گی اور سیاسی عمل جاری رہے گا۔
یوکرین کے برطرف کیے جانے والے وزیر دفاع نے اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں جاری جنگی صورتحال کے باوجود انتخابات کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ جمہوریت اور سیاسی عمل کو کسی بھی بحران کے دوران تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور عوام کو اپنے نمائندے چننے کا حق ملنا چاہیے۔ اس مطالبے نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ملک میں پولنگ کا انعقاد ایک انتہائی پیچیدہ اور کٹھن مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ کے دوران اس طرح کے مطالبات حکومتی اور عسکری حلقوں میں موجود سیاسی سوچ میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یوکرین کو اس وقت روس کے ساتھ جاری طویل اور شدید جنگ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں پہلے ہی مارشل لاء اور ہنگامی حالت نافذ ہے۔ اس تناظر میں تمام تر قومی توجہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور سرحدوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ آئینی اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر عام طور پر جنگی حالات میں انتخابات کرانا ممکن نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اس سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور دشمن قوتیں اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ سابق وزیر دفاع کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی اندرونی سیاست میں بھی ہلچل پائی جاتی ہے۔ اگرچہ جنگ کے دوران انتخابات کا انعقاد ایک غیر معمولی اقدام ہوگا، لیکن حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے حکومت کی جمہوری ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب، حکومتی عہدیداروں اور سکیورٹی ماہرین نے اس خیال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ترجیح جنگ کے خاتمے اور قومی یکجہتی کو قرار دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ یوکرین کی قیادت اس مطالبے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا جنگی حالات میں کوئی سیاسی لچک دکھائی جاتی ہے یا نہیں۔