LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں مائیں بچوں کو دودھ پلانے میں مشکلات کا شکار

News Image
غزہ میں جاری کشیدہ حالات، بھوک اور نقل مکانی کی وجہ سے دودھ پلانے والی مائیں اپنے بچوں کی بنیادی خوراک کی فراہمی سے قاصر ہیں۔ مصائب اور شدید ذہنی تناؤ کے شکار خاندان بچوں کی پرورش کے لیے فوری امداد کی دہائی دے رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری طویل کشیدگی اور انسانی بحران کے درمیان، شیرخوار بچوں کی ماؤں کو اپنے بچوں کی پرورش اور انہیں دودھ پلانے کے لیے انتہائی کٹھن حالات کا سامنا ہے۔ خوراک کی قلت، شدید بھوک، مسلسل نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے ماؤں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ غزہ کے اس سنگین انسانی منظر نامے میں، وہ مائیں جو اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، خود مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے شدید جسمانی اور ذہنی کمزوری کا شکار ہو چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کا دودھ سوکھ رہا ہے یا اس کی پیداوار کم ہو گئی ہے، جس سے معصوم بچوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین اور مقامی امدادی کارکنوں کے مطابق، طویل جنگ اور محاصرے کی وجہ سے خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات تک رسائی انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندان شدید سردی یا گرمی میں خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے قریب رہنے پر مجبور ہیں، جہاں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے ماحول میں ذہنی دباؤ اور خوف نے ماؤں کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جو براہ راست ان کے بچوں کی خوراک اور نشوونما کو متاثر کر رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور مقامی فلاحی تنظیموں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں فوری طور پر خصوصی طبی اور خوراکی امداد پہنچائیں۔ بچوں کے لیے فارمولا دودھ، ماؤں کے لیے متوازن غذائی اجزاء اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی اس وقت زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ کی آنے والی نسل کو شدید غذائی قلت اور ناقابل تلافی طبی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو خطے کے پہلے سے ابتر انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔