Pakistan
وزیر اعظم شہباز شریف کا سرکاری محکموں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور رائٹ سائزنگ پر زور
وزیر اعظم شہباز شریف نے سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومتی کارکردگی میں بہتری کے لیے غیر ضروری اسامیاں ختم کرنے اور رائٹ سائزنگ اصلاحات کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر اور شفاف بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام محکموں میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور سرکاری امور میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری مشینری کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے حکومتی کارکردگی میں بہتری اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے غیر ضروری اسامیاں فوری طور پر ختم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، اور اسی مقصد کے تحت رائٹ سائزنگ کی اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ مہم کے تحت تمام محکموں اور اسامیوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کروایا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔
رائٹ سائزنگ کے اس عمل کے تحت غیر ضروری وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کی تشکیلِ نو یا ان کے انضمام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری وسائل کا ضیاع روکا جائے اور دستیاب فنڈز کو عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام متعلقہ وزارتوں کو مقررہ مدت کے اندر اپنی اصلاحاتی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے وزیر اعظم کے ویژن کی تائید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کے عمل کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف سرکاری امور میں چستی آئے گی بلکہ کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کے فروغ میں بھی مدد ملے گی، جس کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا۔