LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کیخلاف حکومت کی نظرثانی اپیل

News Image
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے جس میں جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ قانونی قدم اسلام آباد میں اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بدھ کے روز جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو کسی نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے پٹیشن دائر کر دی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ قانونی قدم اس فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں سابق وزیراعظم کو طبی سہولیات کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کا کہا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ ذرائع کے مطابق، قانونی ٹیم نے متعلقہ عدالت میں نظرثانی کی درخواست جمع کروائی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل کے اندر تمام ضروری طبی سہولیات پہلے سے موجود ہیں اور ایک قیدی کے لیے جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی طبی معائنہ اور علاج معالجے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ حکومتی وکلاء کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے انتظامی اور قانونی امور میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، لہذا عدالت کو اس معاملے کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اس حکومتی اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خدشات کو نظر انداز کرنا بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کو ان کی طبی ضروریات کے مطابق بہترین طبی امداد اور نجی اسپتال میں چیک اپ کی سہولت ملنی چاہیے جو ان کا بنیادی قانونی حق ہے۔ اس تازه پیش رفت کے بعد ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس نظرثانی اپیل کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے دلائل کا سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ عدالتِ عظمیٰ اب اس درخواست پر سماعت کرے گی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ صادر کرے گی کہ آیا بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اسپتال میں ہی رکھا جائے گا یا انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم برقرار رکھا جائے گا۔