AI
مصنوعی ذہانت اور اسپیس ایکس کے نام پر بڑا مالیاتی فراڈ بے نقاب
امریکی ریگولیٹرز نے ایک ایسے بڑے مالیاتی فراڈ کا انکشاف کیا ہے جس میں ریٹائرڈ افراد کو مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں کے جعلی حصص فروخت کیے گئے۔ اس اسکینڈل کے ذریعے ملزمان نے بھاری بھرکم پوشیدہ فیسوں کی مد میں چوہتر ملین ڈالر سے زائد کی رقم بٹوری۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو جدید ترین کمپنیوں کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ایک نام نہاد بوائلر روم کے ذریعے ریٹائرڈ اور معمر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں اسپیس ایکس، اینڈرل، اینتھروپک اور پرپلیکسٹی جیسی دنیا کی سرفہرست ٹیکنالوجی اور اے آئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا جھانسہ دیا گیا۔ ملزمان نے اس دھوکہ دہی کے جال کے ذریعے معصوم شہریوں سے چوہتر ملین ڈالر سے زائد کی خطیر رقم اکٹھی کی۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ فراڈ صرف جعلی وعدوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں سرمایہ کاروں سے انتہائی بھاری اور پوشیدہ فیسیں وصول کی جاتی رہیں جن کے بارے میں صارفین کو پہلے سے کوئی آگاہی نہیں دی گئی تھی۔ جب ریٹائرڈ افراد نے اپنی زندگی بھر کی جمع پੂੰجی ان نام نہاد منافع بخش منصوبوں میں لگائی تو انہیں مالیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایس ای سی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا معاملہ ہے جہاں اے آئی اور خلائی ٹیکنالوجی کی مقبولیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے منظم طریقے سے عام شہریوں کو لوٹا گیا۔
اس سنگین معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے گرد موجود غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح کے عناصر فعال ہو رہے ہیں جو عام لوگوں کی ٹیکنالوجی سے متعلق لاعلمی کا استحصال کرتے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اس معاملے پر سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور مستقبل میں اس قسم کے گھناؤنے جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔
اس پورے واقعے نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور اور اے آئی کے عروج کے ساتھ ساتھ مالیاتی دھوکہ دہی کے نئے اور پیچیدہ طریقے بھی جنم لے رہے ہیں۔ ریگولیٹری اداروں نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ یا نام نہاد ہائی ٹیک انویسٹمنٹ اسکیم میں رقم لگانے سے پہلے متعلقہ اداروں کی قانونی حیثیت اور مالیاتی پس منظر کی مکمل جانچ پڑتال ضرور کریں تاکہ اس قسم کے مالیاتی فراڈ سے بچا جا سکے۔