Technology
مائیکروسافٹ ڈیٹا لاس: ستر ہزار سے زائد نراف پرافٹ تنظیمیں متاثر
رونلڈ کھوسلا جیسے ٹیکنالوجی کے سابق کاروباری افراد اور فلاحی اداروں کو اس وقت شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا جب ہزاروں غیر منافع بخش تنظیمیں اپنا تمام ڈیٹا کھو بیٹھیں۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے ضیاع نے مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروسز اور سیکیورٹی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دنیا بھر میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب اطلاعات کے مطابق ستر ہزار سے زائد غیر منافع بخش اور فلاحی تنظیمیں اچانک اپنے تمام اہم ڈیجیٹل ڈیٹا سے محروم ہو گئیں۔ یہ بحران اس وقت سامنے آیا جب ان تنظیموں نے اپنے روزمرہ کے امور، ڈونرز کی تفصیلات اور فنڈ ریزنگ کے ریکارڈ کو سنبھالنے کے لیے کلاؤڈ سسٹمز کا استعمال کیا تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان اداروں کے روزمرہ کے کام کو معطل کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی مستقبل کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، کیونکہ وہ اس ڈیٹا کو بحال کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
اس بڑے سانحے کے بعد تکنیکی ماہرین اور فلاحی تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے مائیکروسافٹ کی خدمات اور اس کے حفاظتی اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا دنیا کی اس بڑی ٹیک کمپنی کے سسٹمز میں کوئی سنگین خامی موجود تھی یا پھر بیک اپ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ رونلڈ کھوسلا جو کہ ایک سابق سبزی کاشتکار اور اب ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا لاس کسی بھی تنظیم کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ادارے پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہوں۔
متاثرہ اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں بروقت وارننگ نہیں دی گئی اور نہ ہی ڈیٹا ریکوری کے حوالے سے کوئی قابل عمل مدد فراہم کی گئی۔ اس واقعے نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ انڈسٹری کی سیکیورٹی پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے صارفین بالخصوص فلاحی اداروں کے لیے زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور فوری طور پر قابلِ بحالی بیک اپ سسٹمز فراہم کرنے چاہئیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔