LIVE
Loading Breaking News...

عالمی بانڈ ییلڈز میں ریکارڈ اضافہ، مہنگائی اور مالیاتی دباؤ میں شدت

News Image
بروز منگل عالمی بانڈ ییلڈز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں امریکی، جاپانی اور جرمن سرکاری قرضوں کی لاگت کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس رجحان کی بڑی وجوہات میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، مہنگائی کے خدشات اور مالیاتی دباؤ شامل ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز اس وقت شدید ہلچل دیکھنے میں آئی جب دنیا بھر میں بانڈ ییلڈز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی، جاپانی اور جرمن حکومتوں کے قرض لینے کے اخراجات یا تو کئی سالوں یا پھر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر جاپہنچے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس تیزی کی بڑی وجوہات میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی کے حوالے سے برقرار رہنے والے خدشات، جاپان کی سخت مالیاتی پالیسی کے توقعات اور حکومتوں پر بڑھتا ہوا مالیاتی دباؤ شامل ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بانڈز کی مارکیٹ میں جاری یہ تیزی اس بات کی غماز ہے کہ مرکزی بینکوں کو آنے والے دنوں میں شرح سود کے حوالے سے مزید سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر امریکہ اور یورپ میں افراط زر کے اعداد و شمار مارکیٹ کی توقعات سے زیادہ آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان میں مانیٹری پالیسی کی تبدیلیوں کے اشاروں نے بھی بانڈ مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بڑھتی ہوئی یہ ییلڈز نہ صرف حکومتوں کے لیے قرض کے حصول کو مہنگا بنا رہی ہیں بلکہ اس کا اثر کارپوریٹ سیکٹر اور عام صارفین پر بھی پڑ رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں عالمی مالیاتی اداروں اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہوں گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔