Pakistan
پاکستان میں دہشت گردی کی لہر، ٹانک چیک پوسٹ حملے میں 15 افراد شہید
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جام شہادت نوش کر گئے۔ ملک کے شمال مغربی حصوں میں حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد (نکسورا نیوز اردو) پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک مشترکہ پولیس اور سیکیورٹی چیک پوسٹ پر شدید نوعیت کا دہشت گردانہ حملہ کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 15 افراد شہید ہوئے جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران ملک میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے سیکیورٹی اداروں کیلیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں چیک پوسٹوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں ہنگو میں ہونے والا ایک اور چیک پوسٹ کا حملہ بھی شامل ہے جہاں ڈی ایس پی سمیت سات پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ شمال مغربی پاکستان میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں بھی درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ان تمام افسوسناک واقعات نے پورے ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کے خطرے کو اجاگر کر دیا ہے اور عوام و خواص میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن و امان کی بحالی کیلیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔