LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ فوجی مشقوں میں کمی

News Image
امریکہ اور جنوبی کوریا نے واشنگٹن کی درخواست پر اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے بعد کیے جانے والے اس فیصلے سے خطے میں دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنے سالانہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات اور واشنگٹن کی خصوصی درخواست کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ان جنگی مشقوں کو وقت سے پہلے ہی ختم یا مختصر کر دیا گیا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے راہیں ہموار کی جا سکیں۔ اگرچہ اس اقدام سے جنوبی کوریا کے صدر کو وہ کچھ مل گیا ہے جو وہ طویل عرصے سے چاہتے تھے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد سئول میں بے چینی کیوں پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیشرفت کے بعد دفاعی تیاریوں اور اتحادی ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے حوالے سے نئے خدشات نے جنم لیا ہے۔ دوسری طرف، شمالی کوریا نے بھی ان مشترکہ فوجی مشقوں کے تناظر میں سخت ردعمل ظاہر کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کی وجہ سے کورین شبه جزیرے میں کشیدگی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ سیاسی اور عسکری ماہرین اس صورتحال کو انتہائی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے خطے کے امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین دفاعی تعاون کی تاریخ طویل ہے، لیکن حالیہ تبدیلیوں نے دونوں اتحادیوں کے مابین تعلقات میں ایک نیا موڑ لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سئول اور واشنگٹن اسٹریٹجک سطح پر اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب کرتے ہیں اور شمالی کوریا کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے۔