LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں تناؤ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبِ ہرمز کے راستے پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے بعد تیل کی قیمتوں میں تین ہفتے کی بلند ترین سطح پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹینکرز کے راستے بدلنے اور خطے میں پیدا ہونے والے تناؤ نے عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ آبِ ہرمز کے اہم بحری راستے پر پیدا ہونے والی شدید غیر یقینی صورتحال ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبِ ہرمز میں نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات اور سیاسی بیان بازی کے بعد تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک لحاظ سے اس اہم سمندری راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ عالمی سطح پر توانائی کی رس رسد کو براہ راست متاثر کرتا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر تیل کی فی بیرل قیمت پر ظاہر ہوتے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تیل بردار جہازوں اور ٹینکرز کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی ہے اور کئی جہازوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں یا آبِ ہرمز کے قریب یو ٹرن لے لیا ہے۔ ایران کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت اقدامات اور خطے میں موجود کشیدہ صورتحال نے تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کارگو اور شپنگ کمپنیوں نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے سیکیورٹی رسک کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جس سے سپلائی چین میں تاخیر کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی اور دیگر مغربی رہنماؤں کی جانب سے بیانات اور دھمکیوں نے بھی منڈی کے مزاج پر منفی اثر ڈالا ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور افراط زر پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے، جو دنیا بھر کے ممالک بالخصوص ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔