LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی مالی سال معیشت

News Image
مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا تاہم تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.98 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے مہینے یعنی جولائی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں تاہم بیرونی شعبے کے چیلنجز تاحال برقرار ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر معاشی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی میں ملکی معیشت کو بیرونی توازن کے حوالے سے ملا جلا ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر شاندار 32 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور برآمدات بڑھ کر 2.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس مثبت رجحان کے باوجود تجارتی خسارہ بھی بڑھ کر 3.98 ارب ڈالر ہو گیا ہے جس کی وجہ درآمدات میں ہونے والا تسلسل اور عالمی منڈیوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہے۔ درآمدات اور برآمدات کے اس فرق نے بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ کو 328 ملین ڈالر کے خسارے میں دھکیل دیا۔ دوسری جانب، پاکستان کے حقیقی موثر شرح مبادلہ (REER) میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے جو کہ آٹھ سال کی بلند ترین سطح 107.9 یا 107.92 پر جا پہنچا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ای ای آر (REER) میں اضافے سے ملکی کرنسی کی قدر اور بین الاقوامی مسابقت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے اور برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں تاکہ اس خسارے کو کم سے کم رکھا جا سکے اور ز مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنایا جا سکے۔