World
بحیرہ احمر کشیدگی سعودی عرب کا حوثیوں کیخلاف اتحاد کا مطالبہ
سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی تجارت اور تیل کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے خطے میں سفارتی اور عسکری سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔
ریاض: سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور سمندری تجارت کو لاحق خطرات کے پیش نظر ایک مضبوط بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے تیل کے بردار جہازوں اور تجارتی بحری بیڑوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سعودی حکام خطے میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی طاقتوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، چین نے بھی حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے اس کے تجارتی بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کریں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔ یمن کے حوثی باغیوں کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی سمندری قوانین اور آزاد تجارت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کے ممکنہ کردار پر بھی عالمی میڈیا میں تبصرے جاری ہیں کیونکہ اس راستے سے ہونے والی تجارت دنیا بھر کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں سکیورٹی کے چیلنجز سے بروقت نہ نمٹا گیا تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو پہلے ہی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ سعودی عرب کی اس نئی سفارتی اور عسکری حکمت عملی کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور حوثی حملوں کا مؤثر جواب دینا ہے تاکہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔