LIVE
Loading Breaking News...

چینی روبوٹ ڈاگز اور امریکی فوجی فنڈنگ کا تعلق

News Image
یونی ٹری جیسی مشہور چینی روبوٹک کمپنی کی ترقی میں امریکی فوج کی طرف سے کی گئی تحقیقی فنڈنگ کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اصل میں امریکی یونیورسٹیوں میں شروع ہوئی تھی جس نے چینی مارکیٹ میں اس کی توسیع کی راہ ہموار کی۔
عالمی سطح پر روبوٹکس کی دنیا میں تہلکہ مچانے والی مشہور چینی کمپنی 'یونی ٹری' (Unitree) کے روبوٹ کتوں کی شاندار ترقی اور عروج کے پیچھے ایک دلچسپ اور غیر متوقع حقیقت سامنے آئی ہے۔ ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ان جدید ترین روبوٹک سسٹمز کی کامیابی میں دراصل امریکی فوج کی طرف سے کی جانے والی تحقیقی فنڈنگ اور معاونت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جو آج چینی مارکیٹ پر راج کر رہی ہے، اس کی بنیادیں اصل میں امریکی یونیورسٹیوں میں ہونے والی سائنسی تحقیق پر رکھی گئی تھیں۔ امریکہ کی مختلف عسکری ایجنسیوں نے ماضی میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کی بہتری کے لیے یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر تحقیقی منصوبوں کی مالی اعانت کی تھی۔ ان تحقیقی منصوبوں کا مقصد دفاعی اور جنگی میدان میں مددگار ٹیکنالوجی تیار کرنا تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ تعلیمی اور تحقیقی مباحث اور پروٹو ٹائپس کھلے عام دستیاب ہوئے، تو چینی کمپنیوں بالخصوص یونی ٹری نے ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے انھی امریکی فنڈز سے پروان چڑھنے والی بنیادی سائنسی اور انجینئرنگ ایجادات کو اپنایا اور انتہائی کم لاگت میں تجارتی پیمانے پر تیار کرنا شروع کر دیا۔ یونی ٹری کے تیار کردہ یہ روبوٹ کتے آج نہ صرف صنعتی شعبے میں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ان کی پھرتی، توازن اور ذہانت نے ماہرین کو بھی دنگ کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تجارتی کامیابی کی کہانی ہے، لیکن اس نے امریکہ میں پالیسی سازوں کے لیے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ہونے والی عسکری تحقیق بالآخر چین جیسی معیشتوں کے لیے تکنیکی برتری کا ذریعہ بن گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ٹیکنالوجی کی سرحدیں اب زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھی جا سکتیں۔ تحقیق اور ترقی کے اس عالمی توازن میں جہاں امریکہ نے بنیادی فنڈنگ فراہم کی، وہیں چین نے اپنی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور اسپیڈ کی بدولت اس ٹیکنالوجی کو تجارتی کامیابی کے عروج پر پہنچا دیا۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ اور پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔