LIVE
Loading Breaking News...

پریونٹ اسکیم: انتہا پسندی کے شبے میں ریفر بچوں کو بغیر مدد اسکول واپسی

News Image
بچوں کی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسندی کے خدشات کے پیش نظر پریونٹ اسکیم کے تحت ریفر کیے جانے والے ہزاروں بچوں کو بغیر کسی مدد کے واپس اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے بچوں کے مستقبل اور ان کی بحالی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
برطانیہ میں بچوں کی کمشنر ڈیم ریچل ڈی سوزا کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انتہا پسندی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر 'پریونٹ' (Prevent) اسکیم کے تحت ریفر کیے جانے والے ہزاروں بچوں کو بغیر کسی معاونت یا مدد کے واپس اسکولوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں حکومتی پروگرام کے تحت جانچ پڑتال کے لیے تو لایا گیا، لیکن عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں کسی بھی قسم کی ذہنی یا تعلیمی بحالی کی خدمات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو تہائی بچوں کو ایسے معاملات میں اسکول واپس بھیج دیا گیا جہاں ان کی کوئی باضابطہ کونسلنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے مسائل کے حل کے لیے کوئی طویل مدتی حکمت عملی بنائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غفلت بچوں کو مزید تنہائی اور انتہا پسندانہ نظریات کی طرف دھکیل سکتی ہے، کیونکہ اگر کم عمر میں ہی ان کی درست رہنمائی نہ کی جائے تو وہ معاشرتی بگاڑ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حکام اور اداروں پر یہ شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ پریونٹ اسکیم کے مقاصد کو تو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انفرادی سطح پر بچوں کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے اسکولوں اور مقامی کونسلز کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ بچوں کو بروقت مدد نہیں مل پاتی۔ بچوں کے حقوق کے کارکنان اور فلاحی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ ہر اس بچے کو جو انتہا پسندی کے شبے میں اسکول یا دیگر اداروں سے ریفر کیا جائے، اس کی بحالی کے لیے جامع اور مستقل پروگرام تشکیل دیا جائے تاکہ وہ ایک صحت مند شہری کی طرح اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔