Technology
چین کا سرکاری کمپیوٹرز سے ونڈوز 10 ہٹانے کا فیصلہ، ڈیٹا سکیورٹی کو ترجیح
چین کی وزارتِ قومی سلامتی نے سرکاری اور اس سے منسلک اداروں کو ونڈوز 10 کے سرکاری ایڈیشن کو اپنے کمپیوٹرز سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ قدم بیجنگ کی جانب سے ڈیٹا سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ غیر ملکی سافٹ ویئر پر انحصار کم کیا جا سکے۔
چین کی وزارتِ قومی سلامتی نے ملک کے اہم سرکاری اداروں اور سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کو ایک اہم ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کمپیوٹرز سے مائیکروسافٹ ونڈوز 10 کے مخصوص سرکاری ایڈیشن کو فوری طور پر ان انسٹال کریں۔ اس بات کی اطلاع معروف عالمی ذرائع ابلاغ نے اس معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ اس فیصلے کو بیجنگ کی طرف سے سائبر سکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور ملکی سطح پر تیار کردہ تکنیکی نظام کو فروغ دینے کی ایک بڑی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین طویل عرصے سے اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بیرونی مداخلت اور حساس معلومات کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے فکرمند رہا ہے۔ یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک اور بڑی کڑی ہے جس کا مقصد ملک کے اندرونی نظام کو کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔ مائیکروسافٹ کے اس مخصوص ایڈیشن کو ماضی میں چینی حکومتی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا تھا تاکہ یہ ملکی ضابطوں پر پورا اتر سکے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں سکیورٹی خدشات اور خودمختار ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے حکومت نے اپنے پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب سرکاری اداروں میں ملکی سطح پر تیار کردہ آپریٹنگ سسٹمز اور سافٹ ویئر کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ہدایت کے نفاذ سے چین کی ملکی آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور مقامی ڈویلپرز کو اپنے سسٹمز مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ دوسری جانب، اس پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی مارکیٹ میں بھی ہلچل مچا دی ہے کیونکہ چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس قسم کے اقدامات عالمی سطح پر سافٹ ویئر مینوفیکچررز کی حکمت عملی کو متاثر کر سکتے ہیں۔