LIVE
Loading Breaking News...

بینک لیومی کا میٹا کے خلاف مقدمہ، جعلی اشتہارات پر قانونی چارہ جوئی

News Image
اسرائیل کے معروف بینک لیومی نے میٹا کے خلاف تل ابیب کی عدالت میں دو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ شیکلز کا ہرجانہ دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ بینک کا مؤقف ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر صارفین کو لوٹنے والے جعلی اشتہارات کی اجازت دی جا رہی ہے۔
تل ابیب: اسرائیل کے بڑے تجارتی بینکوں میں سے ایک، بینک لیومی نے سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی میٹا (Meta) کے خلاف تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں تقریباً 2 کروڑ 66 لاکھ شیکلز (اسرائیلی کرنسی) کا ایک بڑا قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی قدم اس تشویشناک صورتحال کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے جس میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر بینک کے نام سے چلنے والے جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات کی حوصلہ افزائی یا کم از کم انہیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔ بینک کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں واضح کیا گیا ہے کہ مجرمانہ عناصر ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو اپنی چالوں کا نشانہ بناتے ہیں، اور ایسے اشتہارات چلاتے ہیں جو ظاہری طور پر بینک لیومی کی طرف سے جاری کردہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان جعلی اشتہارات کا بنیادی مقصد معصوم صارفین کو جھانسہ دے کر ان کی ذاتی مالیاتی معلومات چرانا اور ان کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی کرنا ہے۔ بینک حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فراڈ سے نہ صرف معصوم شہریوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اس سے بینک کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مقدمے میں اس بات پر بھی شدید زور دیا گیا ہے کہ میٹا جیسی ٹیک جائنٹ کمپنیز کے پاس اتنے وسیع وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ ان خطرناک اور جعلی اشتہارات کو باآانی شناخت کر کے بروقت ہٹا سکتی ہیں۔ تاہم، کمپنی کی جانب سے اس معاملے میں مبینہ غفلت یا لاپرواہی نے دھوکہ بازوں کے لیے راہیں ہموار کی ہیں۔ بینک لیومی کا مطالبہ ہے کہ عدالت اس معاملے کا سخت نوٹس لے اور میٹا کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرائے کہ اس کے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی وجہ سے صارفین کو جو مالی نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ عالمی سطح پر بھی یہ مقدمہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور روایتی مالیاتی اداروں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کی سکریننگ کے سخت قوانین کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عدالت کا فیصلہ بینک کے حق میں آتا ہے تو اس سے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر چلنے والے مالیاتی اشتہارات کی سخت جانچ پڑتال کریں تاکہ اس قسم کے فراڈ کا سدباب کیا جا سکے۔