LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بچوں میں ذہنی زوال کا خطرہ

News Image
حال ہی میں سامنے آنے والے ایک تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود غیر معیاری اور پرتشدد مصنوعی ذہانت کا مواد بچوں میں علمی زوال اور تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے مزید تحقیقات اور گہرے تجزیے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حال ہی میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے ایک تجزیے نے والدین اور ماہرین تعلیم کی توجہ اس تشویشناک امر کی طرف مبذول کروائی ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کردہ غیر معیاری مواد، جسے عام طور پر 'اے آئی سلاپ' کہا جاتا ہے، بچوں کی ذہنی نشوونما کو منفی انداز میں متاثر کر رہا ہے۔ اس تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں میں علمی زوال یعنی 'برین راٹ' اور پرتشدد رجحانات کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ اس خبر نے پوری دنیا کے ڈیجیٹل میڈیا اور والدین کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ بچے آج کل آن لائن پلیٹ فارمز پر اس طرح کے مواد سے سب سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی سرخیوں میں اس نقصان کو ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس دستاویز یا تجزیے کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے جتنی دکھائی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے موجود حقائق اور شواہد ابھی تک نسبتاً محدود ہیں اور اس حوالے سے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر آنے والا مواد بچوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے والدین اور تکنیکی ماہرین دونوں کو مل کر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو منفی اور پرتشدد ڈیجیٹل مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید مباحثے متوقع ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے نئی نسل کو کس طرح بچایا جائے۔