World
غیر منصوبہ بند شہری آبادیاں اور سیلاب کا خطرہ
گھانا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر منظم شہری پھیلاؤ اور ناقص زمینی منصوبہ بندی ملک میں سیلاب اور غذائی عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔ حکومت کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔
گھانا میں غیر منصوبہ بند شہری آبادیوں اور بے لگام شہری پھیلاؤ نے ملک بھر میں ماحولیاتی اور معاشی بحران کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ کوامے نکروماہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک سینئر لیکچرار اور پلاننگ ریسرچر نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے غیر منظم رجحانات ملک میں بار بار آنے والے سیلاب اور بڑھتے ہوئے غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات بن رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ گھانا کو انفراسٹرکچر کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے اور ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لیے فوری طور پر کمپیکٹ اربن ڈویلپمنٹ یعنی مربوط شہری ترقی کے ماڈل کو اپنانا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی زمینوں پر ناجائز قبضے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خوراک کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جب شہر غیر منصوبہ بند طریقے سے پھیلتے ہیں تو نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معمولی بارشیں بھی تباہ کن سیلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے زمینی استعمال کے قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ حکومتی اداروں اور متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار شہری پالیسیاں مرتب کریں تاکہ نہ صرف قیمتی زرعی اراضی کو بچایا جا سکے بلکہ عوام کو بھی سیلاب کے مستقل عذاب سے نجات دلائی جا سکے۔ جامع اور مربوط منصوبہ بندی ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔