World
بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیاں، ICC کا سخت ردعمل
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے عدالت کے صدر اور ایک سینئر پراسیکیوٹر کے خلاف امریکی پابندیوں کے نفاذ پر گہرے دکھ اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی عدالت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے حال ہی میں امریکہ کی جانب سے عدالت کے صدر اور ایک سینئر پراسیکیوٹر پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اس پر سخت تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام بین الاقوامی عدالت کو کمزور کرنے اور اس کے دائرہ اختیار کو محدود کرنے کی ایک دانستہ مہم کا حصہ ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ نیویارک اور ہیگ میں موجود سفارتی حلقوں کے مطابق، اس فیصلے سے امریکہ اور بین الاقوامی انصاف کے اداروں کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ کے اس متنازعہ قدم پر عالمی عدالت کی اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز کی صدارت نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کے اعلیٰ عہدیداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنانا دراصل عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں پر براہ راست حملہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف عدالت کے روزمرہ کے امور متاثر ہوں گے بلکہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا عمل بھی سست پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، واشنگٹن میں پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں امریکی پالیسیوں اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے امریکہ کے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر مزید بحث متوقع ہے، کیونکہ یہ تنازعہ عالمی عدالتی نظام کی خودمختاری اور آزادی کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔