LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ بندی مذاکرات: حماس کا نیتن یاہو پر بڑا الزام

News Image
فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کے ایک کیفے پر ہلاکت خیز حملے کے ذریعے جنگ بندی کی جاری کوششوں کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ فلسطینی دھڑوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملے خطے میں امن کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کے ایک کیفے پر ہونے والے حالیہ خونریز حملے کے بعد جنگ بندی کے تمام مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر دیا ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور امن کی امیدیں مہمند ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق، اس تازہ ترین حملے نے غزہ میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حماس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت کسی بھی صورت میں پرامن حل چاہتی ہی نہیں اور وہ بات چیت کے نام پر محض وقت ضائع کر رہی ہے۔ دوسری جانب، مختلف فلسطینی دھڑوں نے بھی مشترکہ طور پر اسرائیل کو غزہ میں امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالث ممالک کی کوششیں جاری تھیں، اس قسم کے حملے دراصل مذاکرات کو ناکام بنانے کی سوچی سمجھی سازش ہیں۔ غزہ کے باسیوں کو اس وقت شدید ترین مسائل کا سامنا ہے، جہاں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات زندگی کی قلت بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس تناظر میں کیفے پر ہونے والے حملے نے نہ صرف معصوم شہریوں کی جانیں لیں بلکہ امن کے حامیوں کو بھی مایوس کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تمام فریقین سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔ تاہم، نیتن یاہو حکومت کے سخت مؤقف اور مسلسل فوجی کارروائیوں کی وجہ سے جنگ بندی کا کوئی بھی مستقل حل نکلتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں فوجی جارحیت بند نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات انتہائی معدوم رہیں گے۔