Business
امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود برقرار رکھی، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی جادوئی حل نہیں
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کو فی الحال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ مہنگائی تاحال بلند سطح پر برقرار ہے۔ فیڈ چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ معیشت سے مہنگائی کے خاتمے کے لیے کوئی جادوئی حل موجود نہیں ہے۔
امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو نے حالیہ انتہائی اہم اجلاس کے بعد شرحِ سود کو سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر مرکزی بینک کے سربراہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی جادو کی چھڑی موجود نہیں ہے جس سے راتوں رات حالات درست ہو جائیں۔ فیڈرل ریزرو کے اس فیصلے کا مقصد معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے، تاہم یہ اجلاس اندرونی طور پر کافی تقسیم کا شکار نظر آیا جہاں پالیسی سازوں کے درمیان مختلف آراء سامنے آئیں۔ اطلاعات کے مطابق تین اراکین نے شرحِ سود میں مزید اضافے کے حق میں ووٹ دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی بینک کے اندر بھی مہنگائی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے حوالے سے دباؤ موجود ہے۔ مبصرین کے مطابق بینک کے اعلیٰ عہدیدار افراطِ زر کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ مہنگائی کی شرح کو ہدف تک لانے کے لیے کسی بھی قسم کے لچکدار رویے سے گریز کریں گے۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے اعداد و شمار تاحال بلند اور تشویشناک سطح پر ہیں، جس کی وجہ سے فوری طور پر شرحِ سود میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کلف ہینگر میٹنگ کے نتائج آنے والے دنوں میں امریکی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے کیونکہ سرمایہ کار طویل عرصے سے شرحِ سود میں کمی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ فیڈ حکام کا کہنا ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔