LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس اور اسرائیل: جنگی فیصلے اور سیاسی مجبوریاں

News Image
وائٹ ہاؤس کے سفارتی ایلچی اسرائیل کے جنگی رہنما کو جنگ بندی کے لیے قائل کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل میں کسی بھی قسم کا معاہدہ موجودہ وزیراعظم کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی سفارتی کوششیں تاحال بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے بھیجے گئے خصوصی ایلچی اسرائیل کی قیادت بالخصوص جنگی رہنماؤں کو کسی بھی معاہدے یا جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سفارتی ناکامی کے پیچھے گہرے داخلی سیاسی عوامل کارفرما ہیں جو اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل میں جاری تنازعات کے دوران کسی بھی قسم کا امن معاہدہ یا عارضی جنگ بندی ملک کے وزیراعظم کے لیے شدید سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ موجودہ حکومت کی اتحادی جماعتیں اور سخت گیر مؤقف رکھنے والے وزراء کسی بھی قسم کے نرم رویے یا سمجھوتے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی سیاسی بقا اس بات سے جڑی ہے کہ وہ جنگ کے حوالے سے سخت مؤقف اپنائے رکھیں، لہذا بیرونی دباؤ بالخصوص امریکی دباؤ کے باوجود وہ اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔ اس تناظر میں وائٹ ہاؤس کے ایلچیوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ اسرائیلی قیادت کو اپنے مطالبات کے مطابق ڈھال سکیں یا کسی قابلِ عمل امن منصوبے پر رضامند کر سکیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں اس خلیج نے بین سفارتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھوٹی ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اس طویل جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ خود امریکی سیاست اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ اس کے باوجود جب تک اسرائیل کے اندرونی سیاسی توازن میں تبدیلی نہیں آتی اور موجودہ قیادت کے لیے سیاسی خطرات کم نہیں ہوتے، اس وقت تک امریکی ایلچیوں کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے ثمرات حاصل کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دنیا بھر کے امن پسند حلقے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نئے سفارتی راستے تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔