Business
تامل ناڈو میں صنعتوں کے لیے 21 روزہ منظوری کی نئی قانون سازی
تامل ناڈو کے فنانس سیکرٹری ایم اے صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت صنعتوں کے لیے منظوری کے عمل کو تیز اور شفاف بنانے کے لیے ایک نئی قانون ساز تجویز پر کام کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صنعتی شعبے میں بیوروکریٹک تاخیر اور رکاوٹوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
تامل ناڈو کی ریاستی حکومت صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات اور سرخ فیتے کی روایت کو ختم کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور انقلابی قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حکومت ایک ایسی قانون ساز تجویز تیار کر رہی ہے جس کے تحت صنعتوں کو تمام ضروری اجازت نامے اور منظوریز حاصل کرنے کے لیے ایک سخت اور پابند اکیس دن کی قانونی مدت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کاروباری اداروں کو درپیش بیوروکریٹک تاخیر اور رکاوٹوں کا قلع قمع کرنا ہے۔
اس حوالے سے تامل ناڈو کے فنانس سیکرٹری ایم اے صدیقی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی انتظامیہ ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل پر پوری توجہ دے رہی ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی کے لیے عمل کا شفاف، تیز رفتار اور پریشانی سے پاک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ نئی تجویز کے نفاذ سے تاخیر کی تمام گنجائشیں ختم ہو جائیں گی اور متعلقہ محکمے مقررہ وقت کے اندر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس قانون کے منظور ہونے کے بعد ریاست میں سرمایہ کاری کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوگا کیونکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ منصوبوں کی منظوری میں لگنے والا طویل وقت ہوتا ہے۔ اکیس دن کی یہ لازمی مدت نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرے گی بلکہ ریاست میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ تامل ناڈو کو کاروبار کے لیے ملک کی سب سے آسان ریاست بنایا جائے۔