LIVE
Loading Breaking News...

AI مالویئر اور زیرو ٹرسٹ سکیورٹی کا نیا اصول

News Image
مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانوں کی بجائے مشینیں بڑی مقدار میں کوڈ تیار کر رہی ہیں جس سے سکیورٹی کے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوڈنگ کے شعبے میں زیرو ٹرسٹ اصول کو لاگو کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
سافٹ ویئر سکیورٹی کی پوری تاریخ انسانی ترقی اور فہم کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ماضی میں انسان ہی کوڈ لکھتے تھے، اس کا جائزہ لیتے تھے اور پھر اسے پروڈکشن میں ڈیپلائے کیا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور مشینیں اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ حالیہ عرصے میں اینتھروپک کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اب اسی فیصد سے زائد کوڈ مشینوں یا اے آئی کی مدد سے تیار کیا جا रहा ہے، جس نے سکیورٹی کے روایتی تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تکنیکی انقلاب کے ساتھ ہی اے آئی مالویئر اور پوشیدہ خطرات کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ جب انسان کوڈ لکھتے تھے تو ان کی نیت اور غلطیوں کا اندازہ لگانا نسبتاً آسان ہوتا تھا، لیکن خودکار نظاموں کی طرف سے تیار کردہ کوڈ میں ایسے سقم یا جان بوجھ کر ڈالی گئی خرابیاں چھپی ہو سکتی ہیں جنہیں عام انسانی نظریں نہیں پکڑ سکتیں۔ اسی لیے اب یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ روایتی سکیورٹی ماڈلز کو اب مزید کارآمد نہیں سمجھا جا سکتا اور دفاعی حکمت عملی کو مکمل طور پر از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر اور کوڈنگ کے نظام میں زیرو ٹرسٹ کے تصور کو وسعت دینے کا اب وقت آ گیا ہے۔ زیرو ٹرسٹ کا مطلب ہے کہ کسی بھی کوڈ، چاہے وہ انسان کا لکھا ہو یا مشین کا، پہلے سے اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ہر مرحلے پر اس کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔ سکیورٹی کے اس نئے دور میں ہر لائن آف کوڈ کو اس وقت تک شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جب تک کہ وہ جدید ترین خودکار سکیورٹی پیرامیٹرز پر پورا نہ اتر جائے۔ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کے رجحان میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے، جس کے پیش نظر صنعت کے تمام اہم کھلاڑیوں کو سکیورٹی کے محاذ پر زیادہ چوکنا رہنا ہوگا۔ کمپنیوں کو نہ صرف اپنے ملازمین کی تربیت کرنی ہوگی بلکہ ایسے خودکار سکیورٹی آلات بھی تیار کرنا ہوں گے جو اے آئی کی پیدا کردہ پیچیدہ نقائص اور مالویئر کو بروقت شناخت کر کے سسٹمز کو محفوظ بنا سکیں۔