Business
عالمی اسٹیل ری بار مارکیٹ کی ترقی، 2031 تک مالیت کا تخمینہ
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی نئی رپورٹ کے مطابق عالمی اسٹیل ری بار مارکیٹ 2026 میں 202.27 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2031 تک 250.38 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ اس مارکیٹ کی ترقی کی شرح یعنی سی اے جی آر چار اعشاریہ چار فیصد رہنے کی توقع ہے۔
ڈیلرے بیچ، فلوریڈا میں جاری کی جانے والی مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، عالمی اسٹیل ری بار مارکیٹ میں آنے والے برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2026 میں اس مارکیٹ کی مجموعی مالیت تقریباً 202.27 ارب امریکی ڈالر تک متوقع ہے، جو کہ مسلسل ترقی کے عمل سے گزرتے ہوئے سال 2031 تک بڑھ کر 250.38 ارب امریکی ڈالر کے ریکارڈ ہندسے کو چھو لے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طویل مدتی پیش گوئی کے دوران مارکیٹ کی مرکب سالانہ ترقی کی شرح یعنی سی اے جی آر چار اعشاریہ چار فیصد (4.4%) رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اسٹیل ری بار یا مضبوطی فراہم کرنے والی لوہے کی یہ چھڑیں دنیا بھر میں تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عمارتوں، پلوں، شاہراہوں اور دیگر بڑے سول انجینئرنگ کے منصوبوں میں اس کا استعمال ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں جاری تیز رفتار شہری کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی اس مارکیٹ کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔ حکومتیں اور نجی ادارے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تعمیراتی شعبے پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے اسٹیل ری بار کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صیکنالوجیکل ترقی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری بھی اس مارکیٹ کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مینوفیکچررز اب زیادہ پائیدار اور ماحول دوست طریقے سے اسٹیل تیار کرنے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ عالمی ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل کی جا سکے اور لاگت کو بھی قابو میں رکھا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے پانچ سالوں کے دوران تعمیراتی شعبے میں جدت اور بڑھتے ہوئے منصوبے اس صنعت کو مزید استحکام بخشیں گے، جس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔