World
متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات معطل
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ قدم ملک کو نشانہ بنائے جانے والے مبینہ میزائل حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایران کے ساتھ اپنے تمام تجارتی اور مالی تعلقات کو غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ انتہائی فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اماراتی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کے ملک کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے خلیجی خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ یو اے ای کے اس اقدام سے دونوںممالک کے مابین سفارتی اور اقتصادی روابط شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے ایران پر پابندیوں اور تجارتی پابندی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایسے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اماراتی وزارتِ خارجہ اور دفاعی اداروں نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود اور قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی و مالیاتی سرگرمیوں کی معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی اور خطرات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا۔
دوسری جانب، ایرانی حکام نے متحدہ عرب امارات کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں تہران پر میزائل حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات خطے کے امن کو خراب کرنے کی ایک سازش ہو سکتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی برادری اس تازہ تنازعے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ مزید تصادم سے بچا جا سکے۔