Business
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ ایران کشیدگی کا اثر
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں تین ہفتے کی بلندی پر پہنچ گئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تنازعے کے براہ راست اثرات اب عالمی منڈی بالخصوص کموڈٹی مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری ٹینکرز کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے بالخصوص آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث کئی آئل ٹینکرز نے اپنی سمت تبدیل کر لی ہے اور وہ واپس موڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی سختی اور عسکری بیانات کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی دھمکیوں اور سیاسی بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔
معاشی ماہرین اور ریسرچ اداروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بحران کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے، کیونکہ اس اہم تجارتی راستے سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔
حالیہ صورتحال نے دنیا بھر کے انرجی مارکیٹ کے مبصرین کو الرٹ کر دیا ہے اور حکومتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے عالمی معاشی بحالی کے عمل کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں اور خطے کی زمینی صورتحال ہی طے کرے گی کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخ کس سمت جائیں گے۔