LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں غیر فعال یوتھینیشیا اور لیونگ ولز کا مسئلہ

News Image
بھارت کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے غیر فعال یوتھینیشیا کی اجازت کے باوجود عام شہریوں میں لیونگ ولز کے حوالے سے آگاہی کا فقدان ہے۔ اس صورتحال میں شدید بیمار مریضوں کے اہل خانہ کو آگے کے لائحہ عمل کے تعین میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر فعال یوتھینیشیا یعنی پیسیو یوتھینیشیا کی اجازت دیے جانے کے باوجود ملک بھر میں اس حوالے سے آگاہی اور تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر اس عمل کی راہ ہموار ہونے کے باوجود عام شہریوں اور مریضوں کے لواحقین کو اس پیچیدہ عمل اور قانونی تقاضوں کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ جب خاندانوں کو شدید اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا اپنے پیاروں کے حوالے سے انتہائی مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، تو وہ ذہنی اور جذباتی طور پر بالکل تیار نہیں ہوتے۔ 'لیونگ ولز' یا پیشگی وصیت کا تصور عام نہ ہونے کی وجہ سے اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو بھی قانونی اور اخلاقی طور پر شدید الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مریض کی مرضی کا تعین کیسے کیا جائے۔ ماہرین صحت اور قانون دانوں کا ماننا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے ثمر عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حکومت اور طبی اداروں کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ وہ صحت سے متعلق اپنے مستقبل کے فیصلوں کے لیے کس طرح قانونی دستاویزات تیار کر سکتے ہیں۔