Technology
مصری نوجوان کی AI ایپ: بینائی سے محروم افراد کے لیے دنیا دیکھنا ممکن
مصری طالبہ کیرن مراد نے اپنے بھائی کی تیار کردہ جدید مصنوعی ذہانت (AI) ایپ کی مدد سے کینیا کے سفر کے دوران قدرت کے مناظر کا آڈیو ویژول انداز میں تجربہ کیا۔ یہ انقلابی ایپ کیمرے کے ذریعے ماحول کی تفصیلات بیان کرتی ہے تاکہ بینائی سے محروم افراد دنیا کو محسوس کر سکیں۔
قاہرہ سے تعلق رکھنے والی سولہ سالہ اسکول کی طالبہ کیرن مراد، جو پانچ سال قبل اپنی بینائی سے محروم ہو گئی تھیں، نے حال ہی میں کینیا کے دورے کے دوران زندگی کا ایک نیا اور انوکھا تجربہ حاصل کیا۔ جون میں جب وہ کینیا میں سفاری پر تھیں تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک بار پھر دنیا کو دیکھ رہی ہیں۔ یہ معجزہ کسی اور چیز کا نہیں بلکہ ان کے اپنے بھائی کی تیار کردہ ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) ایپ کا مرہون منت تھا، جس نے سفاری کے مناظر کو انتہائی خوبصورتی اور تفصیل کے ساتھ آڈیو ویژول انداز میں بیان کیا۔ اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف کیرن بلکہ دنیا بھر کے بصارت سے محروم افراد کے لیے زندگی کی مشکلات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ یہ ایپلیکیشن جدید مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا استعمال کرتی ہے جو اسمارٹ فون کے کیمرے کے ذریعے سامنے موجود مناظر، اشیاء اور ماحول کو اسکین کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ سسٹم سیکنڈز کے اندر اندر صارف کو بول کر بتاتا ہے کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے یا کون سی چیز موجود ہے۔ کیرن مراد کے بھائی نے اس ایپ کو اس عزم کے ساتھ تیار کیا تھا کہ وہ اپنی بہن اور ان جیسے دیگر تمام افراد کی مدد کر سکیں جو بصارت کی نعمت سے محروم ہیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایپ کا انٹرفیس انتہائی سادہ اور استعمال میں آسان ہو تاکہ ہر عمر کا شخص اسے بغیر کسی دشواری کے استعمال کر سکے۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال درست سمت میں کیا جائے تو یہ انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ایجادات سے نہ صرف معذور افراد کی زندگی میں خود مختاری آتی ہے بلکہ وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن کر بھی ابھرتے ہیں۔ قاہرہ اور اس کے گردونواح میں اس ایپ کی پذیرائی کے بعد اب اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے بھی کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر کے لاکھوں بصارت سے محروم افراد اس سے استفادہ کر سکیں۔