LIVE
Loading Breaking News...

پارکنسن کا نیا علاج الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی سے کپکپاہٹ ختم

News Image
بتر لیویل نامی پارکنسن کے مریض کے ہاتھیوں کی شدید کپکپاہٹ ایک نئے الٹراساؤنڈ علاج کے ذریعے چند منٹوں میں بالکل ختم ہو گئی۔ اس جدید طبی طریقہ کار سے مریض کو ریڈیو ٹھیک کرنے کا اپنا پسندیدہ شوق دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملی ہے۔
بتر لیویل نامی بہتر سالہ شخص جو طویل عرصے سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے، ان کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی اس وقت آئی جب انہوں نے ایک جدید الٹراساؤنڈ علاج کا انتخاب کیا۔ اس بیماری کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں شدید کپکپاہٹ رہتی تھی جس نے ان کے معمولات زندگی کو شدید متاثر کر رکھا تھا۔ اس حالت کی وجہ سے ان کے لیے اپنے گیراج میں بیٹھ کر ریڈیو مرمت کرنے کا پسندیدہ مشغلہ جاری رکھنا بھی ناممکن ہو چکا تھا، جو ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا۔ علاج کے روایتی طریقوں سے انہیں خاطر خواہ آرام نہیں مل رہا تھا اور وہ مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔ تاہم، ماہرین طب کی ایک ٹیم نے ایک جدید الٹراساؤنڈ طریقہ علاج متعارف کروایا جس نے اس مسئلے کا حیرت انگیز حل پیش کیا۔ علاج کے اس عمل کے دوران، انتہائی فوکسڈ الٹراساؤنڈ لہروں کا استعمال کیا گیا تاکہ دماغ کے اس حصے کو ہدف بنایا جا सके جو اس کپکپاہٹ کا ذمہ دار تھا۔ حیرت انگیز طور پر، یہ سارا عمل مکمل ہونے کے چند منٹوں کے اندر ہی بتر لیویل کی سالوں پرانی کپکپاہٹ مکمل طور پر غائب ہو گئی۔ ڈاکٹروں اور خود مریض کے لیے یہ ایک ناقابل یقین اور معجزاتی لمحہ تھا کیونکہ وہ طویل عرصے بعد بغیر کسی لرزش کے اپنے ہاتھ سیدھے کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔ اس کامیاب علاج کے بعد بتر لیویل نے اپنے پسندیدہ مشاغل کی طرف واپسی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اب وہ دوبارہ اپنے گیراج میں جا کر ریڈیو کی مرمت کا کام بحال کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، یہ نئی الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی پارکنسن کے دیگر مریضوں کے لیے بھی ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھری ہے، اور آنے والے وقتوں میں اس سے دنیا بھر کے ہزاروں مریض مستفید ہو سکیں گے۔ یہ کامیابی میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو غیر حملہ آور (non-invasive) طریقہ کار کے ذریعے پیچیدہ دماغی امراض کا مؤثر علاج فراہم کرتی ہے۔