Technology
نوجوانوں میں مصنوعی ذہانت کا رجحان اور ہوم ورک
غیر منافع بخش ادارے کامن سینس میڈیا کی نئی رپورٹ کے مطابق دس میں سے سات نو جوان اپنے اسکول کے کام اور ہوم ورک کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے طلباء کو سہولت مل رہی ہے، لیکن کچھ نوجوانوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اس عمل میں سیکھنے کے اصل عمل سے محروم ہو رہے ہیں۔
سان فرانسسکو کے ایک معروف غیر منافع بخش ادارے کامن سینس میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً دس میں سے سات نو جوان اپنے اسکول کے روزمرہ کے کام اور ہوم ورک کو مکمل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں تعلیمی ادارے اور والدین ٹیکنالوجی کے اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے اثرات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں طلباء میں اس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال تعلیمی میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آیا ٹیکنالوجی کا یہ استعمال طلباء کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے اس بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں طلباء کے لیے پیچیدہ سوالات کو حل کرنا آسان بنا دیا ہے، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سروے میں شامل کچھ نوجوانوں کا یہ ماننا ہے کہ اے آئی ٹولز کی مدد سے ہوم ورک کرنے کے باوجود وہ سیکھنے کے اصل تجربے اور تعلیمی گہرائی سے محروم ہو رہے ہیں۔ جب تمام جوابات یا حل سیکنڈوں میں سامنے آ جاتے ہیں تو طالبعلم کی اپنی تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو وہ موقع نہیں ملتا جو روایتی مطالعے کے دوران ملا کرتا تھا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اور اساتذہ کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر مسترد کرنا تو ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ جدید دور کی ضرورت بن چکی ہے، لیکن اس کے متوازن اور درست استعمال کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو اے آئی کے اخلاقی اور مؤثر استعمال کی تربیت دیں تاکہ وہ اس سہولت سے فائدہ بھی اٹھائیں اور ساتھ ہی اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتے رہیں۔