Entertainment
بی ٹی ایس کا گریمی ایوارڈز کا بائیکاٹ اور نئی ایشین پاپ کیٹیگری
عالمی شہرت یافتہ کورین بینڈ بی ٹی ایس نے گریمی ایوارڈز میں اپنی نامزدگی جمع نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت گریمی میں ایک نئی ایشین پاپ کیٹیگری کے تعارف کے فورا بعد سامنے آئی ہے۔
جنوبی کوریا کے دنیا بھر میں مقبول ترین پاپ بینڈ بی ٹی ایس (BTS) نے آئندہ گریمی ایوارڈز کے لیے اپنے گیت اور البمز جمع نہ کرانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم قدم ریکارڈنگ اکیڈمی کی جانب سے ایک نئی 'ایشین پاپ' کیٹیگری کے باضابطہ اعلان کے محض ایک ماہ بعد اٹھایا گیا ہے۔ بینڈ کے اس فیصلے نے میوزک انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے اور مداحوں کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کے پیچھے دونوں فریقوں کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات اور مبینہ طور پر تسلیم نہ کیے جانے کا احساس کارفرما ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ گریمی ایوارڈز میں ایشین پاپ کے لیے ایک الگ کیٹیگری بنانا بظاہر تو ایک مثبت قدم معلوم ہوتا ہے، لیکن اس سے اصل دھارے کی مرکزی کیٹیگریز میں ایشیائی فنکاروں کی پوزیشن محدود ہو سکتی ہے۔ بی ٹی ایس کے اس قدم کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور بعض حلقوں کی جانب سے اسے گریمی انتظامیہ کے خلاف ایک خاموش احتجاج بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بی ٹی ایس نے پچھلے کچھ برسوں میں مغربی موسیقی کی دنیا میں تاریخ ساز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بل بورڈ سمیت کئی بڑے عالمی اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔ تاہم، گریمی ایوارڈز کے ساتھ ان کا رشتہ ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے، جہاں انہیں بارہا نامزد کیے جانے کے باوجود اب تک اہم ٹرافیاں دینے سے گریز کیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بی ٹی ایس کا یہ بائیکاٹ دنیا بھر کے ایشیائی فنکاروں کے حقوق اور ان کی محنت کو مین اسٹریم میں تسلیم کرانے کی ایک بڑی کوشش ثابت ہوگا۔
مداحوں اور انڈسٹری کے ماہرین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا ریکارڈنگ اکیڈمی اس تنازع پر کوئی باضابطہ بیان جاری کرتی ہے یا نہیں۔ بی ٹی ایس کے اس دوٹوک موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کورین اور ایشیائی فنکار اب اپنی تخلیقی شناخت اور قدر و منزلت پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔