LIVE
Loading Breaking News...

آئرلینڈ میں کم از کم اجرت اور نوجوان کارکنان کے مسائل

News Image
آئرلینڈ میں نوجوان کارکنان کو ان کی پیدائش کی تاریخ کی بنیاد پر کم اجرت دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امتیازی سلوک نوجوانوں کو معاشی طور پر عدم تحفظ کا شکار کر رہا ہے۔
آئرلینڈ میں نوجوان کارکنان کو عملی زندگی اور عملی دنیا میں قدم رکھتے ہی شدید معاشی مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک حالیہ بحث کے مطابق، نوجوانوں کو ان کے کام کے معیار اور محنت کے بجائے ان کی پیدائش کی تاریخ کی بنیاد پر کم معاوضہ دیا جا رہا ہے، جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت کم عمر ملازمین کو ان کے تجربہ کار اور بڑی عمر کے ساتھیوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، جس سے ان کی ابتدائی معاشی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کیلی ایرلی کی طرف سے اٹھائے گئے اس اہم مؤقف نے پورے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا ریاست اپنے نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے نوجوانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب اشیائے خوروناک، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، نوجوانوں کو کم اجرت دینا ان کے ساتھ معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی پڑھائی کے اخراجات اٹھانے یا اپنے خاندان کا ہاتھ بٹانے کے لیے جز وقتی یا کل وقتی نوکریاں کرتے ہیں، لیکن انہیں ان کی محنت کا پورا صلہ نہیں ملتا۔ اس امتیازی اجرت کے نظام کی وجہ سے نوجوانوں کا حوصلہ پست ہو رہا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار ہیں۔ مزدور یونینز اور سماجی کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت کو فوری طور پر کم از کم اجرت کے ان قوانین پر نظرثانی کرنی چاہیے جو عمر کی بنیاد پر تفریق پیدا کرتے ہیں۔ کام کی نوعیت اگر ایک جیسی ہے تو معاوضہ بھی یکساں ہونا چاہیے، خواہ ملازم کی عمر کچھ بھی ہو۔ آئرلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اس قسم کا امتیازی سلوک مزدوروں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو سکتی ہے، جس سے آئرلینڈ کی معیشت اور لیبر مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔