Politics
جان سنونو کا ڈیموکریٹس پر نیو ہیمپشائر پرائمری کے فیصلے پر حملہ
سابق امریکی سینیٹر جان سنونو نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی جانب سے نیو ہیمپشائر سے 'پہلی بنیادی' (فرسٹ ان دی نیشن پرائمری) کا درجہ ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو پارٹی کی سیاسی روایت اور ریاست کے ووٹرز کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔
امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے سابق سینیٹر اور سیاسی رہنما جان سنونو نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (DNC) پر شدید تنقید کے تیر برسائے ہیں۔ ان کا یہ غصہ اس فیصلے کی وجہ سے تھا جس کے تحت پارٹی کے صدارتی نامزدگی کے عمل میں نیو ہیمپشائر کو حاصل 'پہلی بنیادی انتخاب' (First in the Nation Primary) کی حیثیت کو ختم یا تبدیل کیا جا رہا ہے۔ جان سنونو نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف سیاسی روایات کے خلاف ہے بلکہ اس سے نیو ہیمپشائر کے ووٹرز کی تاریخی اہمیت بھی کم ہوتی ہے۔
پوڈ کاسٹ 'روتھ لیس' (Ruthless) میں گفتگو کرتے ہوئے جان سنونو کا کہنا تھا کہ نیو ہیمپشائر کے عوام نے دہائیوں تک امریکی صدارتی انتخاب کے عمل میں انتہائی اہم اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ ریاست کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ صدارتی دوڑ کے آغاز میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور ووٹرز کو براہ راست امیدواروں سے ملنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹک قیادت نے اپنے سیاسی مقاصد کے تحت اس تاریخی تسلسل کو توڑنے کی کوشش کی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
ڈی این سی (DNC) کے اس متنازع فیصلے کے بعد سے ہی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ریاست کی انتخابی اہمیت متاثر ہوگی اور قومی سطح پر امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کے طریق کار میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ جان سنونو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ووٹرز اس قسم کے فیصلوں کو آسانی سے فراموش نہیں کریں گے اور آنے والے انتخابات میں اس کا منہ توڑ سیاسی جواب دیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نیو ہیمپشائر کی پرائمری کی پوزیشن کو برقرار رکھنا دونوں بڑی جماعتوں کے لیے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابی عمل میں زیادہ تنوع اور مختلف ریاستوں کی نمائندگی ہو، جب کہ نیو ہیمپشائر کے رہنما اپنی طویل المدتی حیثیت کو کھونے کے لیے کسی بھی صورت تیار نہیں ہیں۔ جان سنونو کا یہ تازہ بیان اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔