World
یوکرین کا ماسکو پر ڈرون حملہ اور روس کی جوابی کارروائی میں خارکیو میں ہلاکتیں
یوکرین نے روس پر جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے ماسکو پر تقریبا آٹھ سو ڈرون داغے ہیں۔ اس دوران جوابی کارروائی میں روسی میزائلوں کے خارکیو پر حملے کے نتیجے میں کم از کم دس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یوکرین نے روس کے خلاف جنگ کے دوران ایک نئی اور بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ماسکو پر حالیہ برسوں کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرینی فورسز نے دارالحکومت ماسکو اور اس کے گردونواح کو نشانہ بناتے ہوئے تقریبا آٹھ سو ڈرون فائر کیے۔ اس فضائی حملے نے روسی دفاعی نظام کو شدید چیلنج سے دوچار کیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ حملہ یوکرین کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اور جارحانہ حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کا مقصد روسی عسکری اور انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے۔ دوسری جانب، روس نے بھی فوری اور شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے یوکرین کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ یوکرین کے شہر خارکیو پر ہونے والے روسی میزائل حملوں میں کم از کم دس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جنگ کے اس نئے اور شدید ترین مرحلے نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید مدہم کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے حملوں میں تیزی لائے جانے کے بعد عام شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور انسانی بحران سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فی الحال جنگ بندی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔