Business
جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، بانڈز کی پیداوار تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر
جاپان میں 10 سالہ سرکاری بانڈز کی پیداوار تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومتی اخراجات میں اضافے اور شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے اسٹاک مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ٹوکیو: جاپانی حصص بازار میں اس وقت شدید دباؤ دیکھا گیا جب ملک میں 10 سالہ سرکاری بانڈز کی پیداوار بڑھ کر لگ بھگ 2.95 فیصد تک جا پہنچی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ گزشتہ تین دہائیوں میں بانڈز کی پیداوار کی سب سے بلند ترین سطح ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بانڈز کی پیداوار میں اس طوفانی اضافے کی بنیادی وجوہات میں حکومتی اخراجات بڑھنے کے خدشات اور بینک آف جاپان کی جانب سے قریب ترین مستقبل میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کی بازگشت شامل ہیں۔ اس معاشی صورتحال کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ میں محتاط رویہ اختیار کیا اور حصص کی فروخت میں اضافہ کیا جس سے مجموعی انڈیکس نیچے آ گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں بھی جاپانی معیشت کی اس تازہ ترین صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ پیش رفت عالمی مالیاتی رجحانات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے مالیاتی فیصلے اور مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی جاپان کے مالیاتی بازاروں کی سمت طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اگر شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو اس سے سرکاری قرضوں کے بوجھ اور کارپوریٹ سیکٹر کی مالی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں جاپانی معیشت کو ایک دو طرفہ دباؤ کا سامنا ہے جہاں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجات کو قابو میں رکھنا ایک چیلنج ہے تو دوسری طرف مہنگائی اور شرح سود کے توازن کو برقرار رکھنا مرکزی بینک کے لیے امتحان بنا ہوا ہے۔