LIVE
Loading Breaking News...

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایران جنگ اور سپلائی کے خدشات

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے ممکنہ تعطل کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو امریکی ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشتیش میں مبتلا کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں برینٹ اور دیگر اہم آئل بینچ مارکس دو امریکی ڈالر فی بیرل سے زائد مہنگے ہو گئے ہیں۔ اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کا تعطل ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری رسہ کشی اور تنازعات کی وجہ سے عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے شدید خدشات پائے جاتے ہیں، جس کے اثرات براہ راست تیل کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو ایک نئے بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ دوسری جانب، تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ میں ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ سفارتی و عسکری حالات کے باعث تیل کے خریدار اور صنعت کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس نوعیت کے بحران عام طور پر رسد اور طلب کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں فوری اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ تاحال پیداوار میں کسی بڑی کٹائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن جنگ کے طول پکڑنے کے اندیشوں نے منڈی کے شرکاء کو دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایران تنازعے کے حوالے سے حالات مزید کشیدہ ہوتے ہیں اور آبروئے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں، تو تیل کی قیمتوں میں مزید فی بیرل اضافے کو روکا نہیں جا سکے گا۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھے گی بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ حکومتیں اور مرکزی بینک اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف متبادل ذرائع اور اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال پر غور کر رہے ہیں تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے اور عام صارفین کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔