Technology
اسرو کا بیان: مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے ڈاکنگ ٹیکنالوجی کلیدی حیثیت رکھتی ہے
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ڈاکنگ ٹیکنالوجی مستقبل کے قمری مشنز اور خلائی تحقیقات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چاند سے نمونے واپس زمین پر لانے اور بھارت کے مجوزہ خلائی اسٹیشن کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگی۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل کے تمام قمری اور انسانی خلائی مشنز کی کامیابی کے لیے ڈاکنگ ٹیکنالوجی کو بنیادی کلید کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف چاند پر سائنسی تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی بلکہ خلا میں پیچیدہ نوعیت کے اقدامات کو بھی ممکن بنائے گی۔ اسرو کے ڈائریکٹر ایم آر راگھویندرا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک خلائی گاڑیوں کو خلا میں آپس میں جوڑنے یا ملانے (ڈاکنگ) کی صلاحیت حاصل نہیں ہوتی، تب تک بڑے پیمانے پر خلائی سرگرمیاں اور طویل مدتی منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خلاء میں مختلف ماڈیولز کو باآسانی جوڑا جا سکے گا، جو کہ بھارت کے اپنے مجوزہ خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے لیے بھی ایک لازمی شرط ہے۔ اس کے علاوہ چاند کی سطح سے قیمتی نمونے جمع کر کے انہیں بحفاظت زمین پر واپس لانے کا پیچیدہ عمل بھی اسی ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے۔ بھارت کی جانب سے مستقبل میں چاند پر انسان بھیجنے اور وہاں طویل قیام کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، جن کے لیے اسرو اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو مسلسل نکھار رہا ہے۔ ڈاکنگ ٹیکنالوجی کی ترقی سے نہ صرف بھارت کے اپنے خلائی پروگراموں کو تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا تکنیکی مقام مزید بلند ہوگا۔ اسرو کے سائنسدان اس وقت اس اہم ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں ہونے والے خلائی مشنز میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔