Business
بینک آف انگلینڈ کی شرح سود پر پالیسی اور معاشی صورتحال
برطانیہ کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مسلسل پانچویں مرتبہ کوئی تبدیلی نہ کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس وقت بینک ریٹ تین اعشاریہ سات پانچ فیصد پر برقرار ہے جو فروری دو ہزار تئیس کے بعد سے سب سے کم سطح ہے۔
برطانیہ کی معاشی اور مالیاتی منڈیوں میں یہ توقعات زور پکڑ رہی ہیں کہ بینک آف انگلینڈ آنے والے اجلاس میں شرح سود کو ایک بار پھر موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ مسلسل پانچواں موقع ہوگا جب مرکزی بینک نے شرح سود میں کوئی ردوبدل نہیں کیا۔ موجودہ صورتحال میں بینک ریٹ تین اعشاریہ سات پانچ فیصد کی سطح پر قائم ہے، جو کہ فروری دو ہزار تئیس کے بعد سے ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم شرح ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے انتہائی محتاط انداز میں قدم اٹھا رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں حالیہ مہینوں کے دوران کچھ کمی ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن معاشی اشاریے اب بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کرنے سے گریز کیا جائے۔ بین الاقوامی اقتصادیات کے تناظر میں بھی برطانیہ کا مرکزی بینک عالمی رجحانات کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی معاشی جھٹکے سے بچا جا سکے۔ تجارتی اداروں اور عام شہریوں کی جانب سے اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ شرح سود براہ راست مارکیٹ کے قرضوں، رہن اور کاروباری لاگت کو متاثر کرتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے گورنر اور پالیسی ساز کمیٹی کے ارکان کی آئندہ میٹنگ کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے، جس سے آئندہ چند ماہ کے لیے ملکی معاشی سمت کا مزید واضح تعین ہو سکے گا۔