LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے جوہری حملے پر ایران کا اسی زبان میں جواب دینے کا اعلان

News Image
ایک ایرانی قانون ساز کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی بھی تنازعے میں جوہری ہتھیار کا استعمال کیا تو تہران بھی اس کا اسی انداز میں جواب دے گا۔ اس بیان سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دفاعی تیاریوں پر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تہران: ایک ایرانی قانون ساز نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے کبھی بھی ایران یا خطے کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو تہران بھی اسی انداز میں اور ویسا ہی جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کی دفاعی حکمت عملی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں موجود سکیورٹی کے نازک توازن کو مزید خراب کر سکتے ہیں اور اس سے سفارتی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں سے تنازعات چلے آ رہے ہیں، جن میں جوہری پروگرام کا معاملہ سب سے نمایاں ہے۔ تہران کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن بیرونی دباؤ اور دھمکیوں کی صورت میں ملک اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقے اس بیان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی کے دنیا بھر بالخصوص مشرق وسطیٰ کے امن پر انتہائی خطرناک اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔