World
یورپ میں امریکی تنصیبات پر ایرانی حملوں کا امکان اور یو اے ای کی تجارت معطل
رپورٹس کے مطابق ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ کشیدگی بڑھانے کی صورت میں یورپ میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا غائرانہ جائزہ لے رہا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران مبینہ طور پر یورپ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اہداف پر حملوں کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں خطے کے اندر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ تہران کی جانب سے ممکنہ دراندازی اور خطرات کے پیش نظر اسٹریٹجک سطح پر ردعمل کی تیاریوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے یورپی ممالک اور امریکہ کے سیکورٹی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ تنازع کے دائرہ کار میں توسیع کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اسی دوران خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تہران کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ تجارت کی معطلی کا یہ فیصلہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، جس سے ایرانی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اقتصادی اور سفارتی محاذ پر ایران کو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے اور یو اے ای کا یہ اقدام تہران کے لیے ایک اور بڑا دھشت ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہیں جہاں ایران اور عمان کے درمیان جلد ہی آبنائے کا ایک نیا راستہ کا اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا نیا راستہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی یا معاشی بحران سے بچا جا سکے۔