World
برطانوی وزارت دفاع افغان ڈیٹا لیک: پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ جاری
برطانوی پارلیمنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارتِ دفاع کا افغان ڈیٹا لیک کا واقعہ ایک پیش گوئی کے قابل ناکامی تھی۔ رپورٹ کے مطابق وزارت نے مناسب مہارت سے بچنے کے لیے رازداری کو بطور ڈھال استعمال کیا۔
برطانوی پارلیمنٹ کی ہاؤس آف کامنز کی ڈیفنس کمیٹی نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ دفاع (MoD) کا افغان ڈیٹا لیک کا واقعہ ایک ایسا المیہ تھا جس کی پیش گوئی کی جا سکتی تھی لیکن اسے مناسب اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے روکا نہیں جا سکا۔ رپورٹ میں سخت تنقید کی گئی ہے کہ وزارتِ دفاع نے اس نوعیت کے حساس معاملات میں مناسب اور ماہرانہ رائے حاصل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر رازداری کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا تاکہ احتساب اور تنقید سے بچا جا سکے۔
کمیٹي کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اس سکیورٹی بریچ سے متعلق خطرات واضح تھے اور متعلقہ حکام کو اس کا اندازہ ہونا چاہیے تھا، مگر اس کے باوجود بروقت اور موثر حفاظتی اقدامات عمل میں نہیں لائے گئے۔ پارلیمانی ارکان کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر درست تکنیکی اور انتظامی فیصلے کیے جاتے تو اس بڑے ڈیٹا لیک کو باآسانی روکا جا سکتا تھا جس نے بعد میں سنگین نوعیت کے سکیورٹی خدشات کو جنم دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری محکموں کی جانب سے شفافیت کے فقدان اور غلطیوں کو چھپانے کے لیے رازداری کا سہارا لینا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے جو مستقبل میں بھی اس طرح کے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈیفنس کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وزارتِ دفاع کو اپنے نظام میں فوری اصلاحات لانی چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ آئندہ اس قسم کے سنگین سکیورٹی نقائص کا سدباب کیا جا سکے تاکہ حساس معلومات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔