LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں جبری فوجی بھرتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات

News Image
یوکرین میں سڑکوں سے زبردستی فوجی بھرتی کرنے کے عمل کو مقامی طور پر 'بسفیکیشن' کا نام دیا گیا ہے۔ اس تنازعے میں بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
یوکرین میں جاری تنازعے کے درمیان فوج کے لیے افرادی قوت کی فراہمی کے عمل کو لے کر سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں جبری فوجی بھرتی کی کوششیں ابتشدد اور بدعنوانی کی زد میں آ چکی ہیں، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سڑکوں پر چلنے والے افراد کو زبردستی پکڑ کر فوجی مراکز میں منتقل کرنے کے اس رجحان کو مقامی سطح پر 'بسفیکیشن' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ کار اب بڑے پیمانے پر عوامی غصے اور قانونی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل میں نہ صرف زبردستی کا عنصر شامل ہے بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر اختیارات کا غلط استعمال اور بدعنوانی بھی سرایت کر گئی ہے۔ بہت سے معاملات میں اہلکار قوانین سے بالاتر ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں کو شدید ذہنی کوفت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے یوکرین کے اندرونی انتظامی ڈھانچے اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ عام شہریوں کو جنگ کے مورچوں پر بھیجنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات متنازع ہوتے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھرتی کے نظام میں شفافیت لائی جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک کو دفاعی لحاظ سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن قانون کی حکمرانی کو پامال کرنا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں اندرونی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس عمل میں ملوث بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور بھرتی کے طریقہ کار کو منصفانہ بنائے۔