LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا غیر قانونی ای ون سیٹلمنٹ پلان، فلسطینیوں کی شدید مذمت

News Image
اسرائیلی حکومت کی جانب سے متنازع ای ون سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت بارہ سو سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے گئے ہیں۔ فلسطینی قیادت اور عوام نے اس قدم کو دو ریاستی حل کے لیے تباہ کن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
فلسطینی حکام اور عوام نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے متنازعہ اور غیر قانونی ای ون (E1) سیٹلمنٹ منصوبے کو مزید آگے بڑھانے کے اقدام پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی طرف سے اس منصوبے کے تحت بارہ سو سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں، جس پر خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری توسیع پسندی کا تسلسل ہے جسے عالمی سطح پر بھی مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ فلسطینی ایوانِ صدر اور وزارتِ خارجہ نے اپنے بیانات میں اس فیصلے کو دو ریاستی حل کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا ہے۔ فلسطینی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، بلکہ یہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی تمام امیدوں کو بھی مٹی میں ملا رہے ہیں۔ عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس قسم کے اقدامات سے روکے جو امن عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ای ون منصوبہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس علاقے میں واقع ہے، جہاں تعمیرات سے مقبوضہ مغربی کنارے کا شمالی اور جنوبی حصہ ایک دوسرے سے کٹ جانے کا خطرہ ہے۔ اس تقسیم سے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب مزید مشکل ہو جائے گا۔ مبصرین کے مطابق، ان غیر قانونی بستیوں کی توسیع کا مقصد خطے کی ڈیموگرافی کو مستقل بنیادوں پر تبدیل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی عمل کے نتائج کو متاثر کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور متعدد مغربی ممالک بھی ماضی میں اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے نظر انداز کیے جانے والے یہ اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ فلسطینی عوام نے اس قبضے اور زمینوں کی جبری ضبطی کے خلاف بھرپور مزاحمت کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید غیر قانونی تعمیرات کو روکا جا سکے۔