LIVE
Loading Breaking News...

شام پر اسرائیلی حملہ: پاکستان کا شدید ردعمل اور مذمت

News Image
پاکستان نے شام کے ہوائی اڈے پر اسرائیل کے غیر اشتعال انگیز فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں جو خطے کے استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اسلام آباد (نیوکسورا نیوز) پاکستان نے شام میں ایک فضائی اڈے پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے غیر اشتعال انگیز حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے خطے کا امن اور استحکام بھی شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے شامی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے شام کے ابوالظہور ایئربیس پر آٹھ فضائی حملے کیے گئے جس سے رن وے اور اسٹوریج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ شامی حکام کے مطابق ان حملوں میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب امریکی سفیر برائے شام نے بھی ان حملوں کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیا ہے۔ اس دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں مبینہ طور پر مؤقف اپنایا گیا کہ یہ کارروائی سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی کیونکہ شام میں مبینہ طور پر ایک ایئربیس پر ترکی کے دستوں کی تعیناتی کے معاملات طے پا رہے تھے۔ ترکیہ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بیانات شام کی خودمختاری کو پامال کرنے کے لیے بہانے تراشنے کے مترادف ہیں۔ شامی وزیرِ خارجہ اسد الشیبانی نے اپنے ایک بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس جارحیت کا نوٹس لے اور حملے رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دمشق اس جارحیت کے باوجود اپنا سفارتی راستہ جاری رکھے گا۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کو بین الاقوامی قوانین کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں سے روکا جا سکے اور خطے میں ان کے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا حساب کتاب کیا جا سکے۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو بین الاقوامی اصولوں اور خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔