World
سلمان رشدی حملہ کیس: ملزم کو دہشت گردی کے الزامات میں سزا
برطانوی نژاد بھارتی مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ہیادی مطر کو دہشت گردی کے جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو حزب اللہ کی مدد کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔
برطانوی نژاد نامور مصنف سلمان رشدی پر جان لیوا حملہ کرنے والے اٹھائیس سالہ ملزم ہیادی مطر کو دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت میں پیش کی جانے والی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے اس حملے کے ذریعے کالعدم تنظیم حزب اللہ کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق، حملے کا مقصد مصنف کو شدید نقصان پہنچانا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کو آزادی اظہار اور عالمی سطح پر سیکورٹی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ نیویارک کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مختلف شواہد اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں ملزم کا جرم ثابت ہو گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ یاد رہے کہ چند سال قبل ایک ادبی تقریب کے دوران سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور طویل عرصے تک اسپتال میں زیرِ علاج رہے تھے۔ اس حملے کے بعد دنیا بھر کے ادبی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملوں کے خلاف مذمتی قراردادیں بھی منظور کی گئی تھیں۔ اب اس عدالتی فیصلے کے بعد متاثرہ مصنف اور ان کے حامیوں نے انصاف کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ ملزم کو جلد ہی اس کے جرائم کی پاداش میں طویل قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔