Pakistan
کراچی میں یومِ آزادی کا اسٹال پر حملہ، کالعدم ایس آر اے کے تین دہشت گرد گرفتار
محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے حساس ادارے کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کر کے دکان کے مالک کو شہید کرنے والے کالعدم سندھو دیش ریволюشنری آرمی (ایس آر اے) کے تین کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان نے بیرون ملک مقیم اپنے آقا ارسلان شاہ کی ہدایت پر 14 اگست سے قبل شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس گھناؤنے واقعے کو انجام دیا تھا۔
محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ایک وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کر کے دکان کے مالک کو قتل کرنے والے کالعدم سندھو دیش ریولوشنری آرمی (ایس آر اے) کے تین مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق یہ دلخراش واقعہ 12 اگست کی رات کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز ٹو سن سیٹ بولوارڈ کے قریب پیش آیا تھا جہاں قومی پرچم اور بیجز فروخت کرنے والے ایک اسٹال پر نامعلوم ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اسٹال کا مالک شدید زخمی ہو گیا تھا جو بعد میں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت امن کے نام سے ہوئی تھی جو کورنگی کے کرسچن ٹاؤن کا رہائشی تھا اور اگست کے آغاز سے ہی اس مقام پر اسٹال لگا رہا تھا۔ واقعے کے بعد ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور بالآخر کورنگی کاز وے کے قریب ایک مشترکہ کارروائی کے دوران تینوں ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت ظفر علی، فراز اور سجاد احمد کے ناموں سے ہوئی ہے جن کے قبضے سے تین ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول بھی برآمد کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ 1908 کی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کالعدم ایس آر اے سے وابستہ ہیں اور انہیں کراچی میں یومِ آزادی کے اسٹالز کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہیں یہ ہدایات بیرون ملک مقیم ایس آر اے کے ایک کارندے ارسلان شاہ کی جانب سے ملی تھیں جو مبینہ طور پر ایک بھارتی پراکسی کے اشارے پر سندھ میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم سجاد نے 3 اگست سے یومِ آزادی کے اسٹالز کی ریکی شروع کی تھی اور 11 اگست کو ڈیفنس فیز ٹو کے اسٹال کو نشانہ بنانے کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔ واقعے کی رات سجاد موٹر سائیکل پر موقع پر پہنچا جبکہ اس کے دو ساتھی ظفر اور فراز دوسری موٹر سائیکل پر اسے کور فراہم کر رہے تھے۔ سجاد نے اسٹال پر موجود شخص پر فائرنگ کی اور فوری طور پر موقع سے فرار ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے بیرونی روابط، مالی معاونت فراہم کرنے والوں اور دیگر سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے اور یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ شہر میں کسی اور سنگین واردات میں بھی ملوث رہے ہیں یا نہیں۔