Pakistan
راولپنڈی اسلام آباد میں بارش اور نالہ لئی فلڈ الرٹ
محکمہ موسمیات نے مسلسل بارشوں کے باعث جڑواں شہروں میں نالہ لئی کے مقام پر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق بارانِ رحمت کے دوران مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ تین روز سے جاری طوفانی بارشوں کے پیش نظر پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے بدھ کے روز نالہ لئی میں سیلاب کا باضابطہ الرٹ جاری کر دیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید شدید بارش متوقع ہے جس کی وجہ سے ن نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور مقامی نالوں بالخصوص نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کا خدشہ ہے۔ کٹاریاں اور گوالمنڈی کے مقامات پر نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ مقررہ حد سے تجاوز کر گیا ہے، جس پر متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شمس آباد میں 122 ملی میٹر، کچہری چوک میں 121 ملی میٹر، کٹاریاں میں 119 ملی میٹر، پیرودھائی میں 118 ملی میٹر، زیر پوائنٹ میں 100 ملی میٹر، بوکرا میں 100 ملی میٹر، سید پور میں 95 ملی میٹر اور گولڑہ میں 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ مسلسل بارش کے باعث نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 21 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر 16 فٹ تک بلند ہو گئی، جس کے بعد ریسکیو اداروں اور انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بارش کے اس سلسلے کے دوران ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی متحرک رہیں اور صدر کے علاقے میں واقع ایک مدرسے سے پانی بھر جانے کے بعد بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ عمارت میں موجود 150 بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، شہزاد ٹاؤن کے علاقے مدینہ ٹاؤن میں مسلسل بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ایک جوڑا جاں بحق اور ان کی بیٹیاں زخمی ہو گئیں۔
ٹریفک پولیس اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب سے بھی شہریوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں سڑکوں پر پھسلن کے باعث رفتار کم رکھنے، فوگ لائٹس کا استعمال کرنے اور لین ڈسپلن کی سختی سے پابندی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔